Featured Post

قرآن آخری کتاب Quran : The Last Book

Don't Discard Quran: Quran is the Only Last, Complete, Protected Divine Book of Guidance, without any doubt, all other books are h...

Showing posts with label Religion. Show all posts
Showing posts with label Religion. Show all posts

18.7.15

Intellect vs Love: Aql vs Ishq

ONE of the lively intellectual engagements in the Muslim (as well as in other) societies has been the debate between aql (often translated as intellect/reason) and ishq (love or intense/crazy love). There have been enough proponents in each camp, generating a heated debate.

The debate is: which one — aql or ishq — is more reliable as a source of guidance and salvation, knowledge and wisdom. According to Prof Annemarie Schimmel (a well-known scholar on Sufism), this debate is known by ‘virtually all religions’, but we focus here on the way the debate has been framed in Muslim societies. Very often, Muslim thinkers and Sufis have juxtaposed the two (aql and ishq) as mutually exclusive ways of being and knowing, while some integrate the two as symbiotic forces that human beings are blessed with.

Philosophers see aql as the main source of generating reliable knowledge for constructing a better human society and leading to the fulfilment of the human soul. On the other hand, the Sufis, led by Rumi (d. 1173), the most eloquent spokesman of this school, argue that human intellect is not a leader, but a misleader; it gives false pretence of the capacity of knowing reality, and creates barriers between partial intellect (aql-i juzwi) and that of the Universal Intellect (aql-i kuli).

Some see ‘aql’ and ‘ishq’ as complementing each other.
Rumi, however, has metaphorised aql with the role of a father, and ishq with that of a mother. Iqbal primarily followed Rumi in this regard while overall rejecting some forms of Sufism that he thought were at variance with the Islamic spirit.

Some scholars argue that the downfall of Muslims since the 13th century is not necessarily due to the Mongol invasion and destruction of Muslim lands, but mainly due to many Sufi ideas, like the alleged anti-intellectualism, that were seen as detrimental to human intellectual development. Whether it is Sufism or not, it seems that in many Muslim societies, some sections of society have tended to ignore or even downgrade the role of reason in understanding faith and shown complete lack of trust in its fruits vis-à-vis revelation on the assumption that revelation rejects human reason — an assumption that is quite some distance from the Quranic perspective.

The fact of the matter is that the Quran is replete with the invitation to think, to ponder, to reflect; but often interpreters of religions have ignored the very intellectual side of sacred texts, and focused on the ritual and ceremonial, daily routines and visible practices. They ignored the less public, but equally or more important dimensions of our religious life, like the reflection on and understanding of the faith, the world around us, as the locus full of the aayaat of God.

In between these contending camps, there have been those who have tried to see both as complementing each other by arguing that both have a place in human life and they should be understood in their own ways, rather than seeing them as mutually exclusive forces. Both have an indispensable place in human life, like the metaphor of Rumi of father and mother. Forsaking this life — claiming that one is devoted to ishq or worship — leads to apathy, neglect, and undervaluing of life.

If this world, as the Prophet (PBUH) tells us, is mazra’a al-aakhira, ie, the ‘cultivation field’ for the coming world, then it assumes a prime place. Islam teaches us to seek the best in this as well as in the next world (Quran, 2:201). Hazrat Ali is reported to have said that when you work (for this world), work as if you are going to live here eternally; and when you pray, pray (with so such humility) as if you are going to die tomorrow.

The study of intellectual traditions in Islam (see for example Intellectual Traditions in Islam by Dr Farhad Daftary), and Sufi traditions (Mystical Dimensions of Islam by Prof Schimmel) show that both have immensely contributed to Muslim cultures/civilisations. The intellectual traditions in Islam have expressed themselves in many shapes and shades, and helped us develop and interpret many disciplines of Islamic/Muslim sciences, including theology, philosophy, jurisprudence, art and architecture, governance, philology, calligraphy, history, ilm al-rijal, medicine, and what have you.

Similarly, the Sufi and other traditions of spirituality have also evolved in different forms and expressions that have enriched our life and contributed to human civilisations in so many areas such as symbolism, spirituality, poetry, stories, apart from spreading the message of love, unity of humanity and transcendental unity of religions, thus leading to religious pluralism.

Today, we need both — the proverbial ‘Sufi love’ to bind various peoples as God’s creatures (ayaal) or His signs (aayaat) and intellect — to improve the quality of life for all, seeing them both as synergistic forces.

By JAN-E-ALAM KHAKI, an educationist, with an interest in the study of religion and philosophy.
Published in Dawn, July 17th, 2015: http://www.dawn.com/news/1194926
http://islam4humanite.blogspot.com/2012/08/quran-intellect-and-reason.html


* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Humanity, Religion, Culture, Science, Peace
Peace Forum Network
Books, Articles, Magazines,  Videos
Overall crossed 2 Million visits/hits
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *

25.3.15

Religion & humanity انسان اور مذہب

انسان کی زندگی پر مذہب کے اثرات کے حوالے سے معاشرے میں مختلف طرح کے نظریات وافکار پائے جاتے ہیں۔ معاشرے کا ایک طبقہ مذہب کو انسانی زندگی کے لیے ناگزیر‘ جبکہ دوسرا اسے انسان کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ سے تعبیر کرتا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ مذہب جدید ریاستوں کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور قومی ریاستوں اور عصری معاشروں کو مذہب پسندوں سے خطرہ ہے۔ یوم پاکستان کے موقع پر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ بیان ملک کے تمام اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوا تھا کہ ہم فرسودہ نظریات سے نجات حاصل کر کے ترقی کی شاہراہ پر چلیں گے۔ اگر تو فرسودہ نظریات سے مراد قتل وغارت گری کے ذریعہ اپنے نظریات پھیلانے والوں سے اظہار لاتعلقی ہے تو وزیراعظم درست کہتے ہیں لیکن اگر اس سے مراد ریاست اور مذہب یا مذہب اور انسان کے باہمی تعلق کی نفی ہے تو اس سے اتفاق ممکن نہیں؛ تاہم حسن ظن سے کام لیتے ہوئے گمان رکھتے ہیں کہ وزیراعظم کا بیان مذہب پسندی سے متعلق نہیں بلکہ صرف انتشار پسندی ، دہشت گردی کے بارے میں ہے۔ وزیراعظم کے بیان سے قطع نظر بعض لوگ مذہب کی افادیت کے منکر ہیں اور مذہبی قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ اس طبقے کا خیال ہے کہ انسانوں کی اجتماعیت یا اکثریت کی باہمی مشاورت سے انسان ایسے فیصلے کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے جو انسانوں کے لیے ضروری یا مفید ہوں اور اس مقصد کے حصول کے لیے یہ طبقہ مغربی پارلیمان کو دئیے گئے لا محدود اختیارات کو اپنے لیے اُسوہ یا نمونہ سمجھتا ہے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاسی اور انتظامی معاملات فقط پارلیمان کے نمائندوں کی مشاورت سے ہی طے ہونے چاہئیں اور اس سلسلے میںوہ پارلیمان کے فیصلوں پرمذہب کی قد غن لگانے کے قائل نہیں جہاں تک تعلق ہے انفرادی زندگی کا تو اس سلسلے میں یہ کامل آزادی کے طلب گار ہیں اور مذہب سے رہنمائی کے حصول کو ہر فرد کا نجی مسئلہ سمجھتے ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی تبلیغ اور نصیحت کو قبول کرنے پر آمادہ وتیار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر دور میں مادر پدر آزادی کا طلب گار رہا ہے لیکن مشاہدے اور تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ فکرو عمل کی لا محدود آزادی اس کے مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ اُسے زندگی کے نشیب وفراز کا مقابلہ کرنے کے لیے قدم قدم پر مذہب اور روحانیت کی ضرورت پڑتی ہے۔
اگر مذہب انسانی زندگی سے نکال دیا جائے تو انسان اورحیوان میں امتیاز کرنا مشکل ہو جائے۔ حیوان اپنے جبلی تقاضوں کو اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق پورا کرتے ہیں جب ان کا پالا کسی طاقتور جانور سے پڑتا ہے تو وہ راہ فرار اختیار کرلیتے ہیں اور اگر ان کا سامنا کسی کمزور جانور سے ہو جائے تو اُسے بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔جنگل کے جانوردوسرے جانوروںکے حقوق کی پاس داری کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے پرآمادہ نہیں ہوتے بلکہ ہر جانور کو اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے طاقت اور قوت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ کئی مرتبہ جنگل کے کمزور جانور اپنی غذائی ضروریات کوپورا کرنے کے دوران کسی اور درندے کی بھوک مٹانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
مذہب انسان کو ایثار، قربانی ،شرم ، حیا ، رواداری اور مروّت کا درس دیتا ہے۔ انسان کو چوری، ڈکیتی، راہزنی، دھوکہ بازی ،شراب نوشی اور زنا کاری سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ مذہب کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر انسان اس حقیقت سے آگاہ ہو جاتا ہے کہ اپنی جبلت اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس کوجائز اور درست راستے کو اختیار کرنا پڑے گا۔ وہ اس بات کو سمجھ جاتا ہے کہ وہ خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو جائے غریب کا مال ہڑپ نہیں کرسکتااور خواہ کتنا بھی بااثر کیوں نہ ہو جائے کمزور افراد کی عزتوں کو نہیں لوٹ سکتا۔ اگر مذہب کو انسانی سماج سے نکال دیا جائے تو انسان اپنی بھوک اور ہوس کو مٹانے کے لیے ہر جائز وناجائز راستے کو اختیار کرے گا لیکن مذہب کی رہنمائی اُسے مجبور کرے گی کہ وہ لوٹ مار کی بجائے تجارت اور زناکاری کی بجائے نکاح کا راستہ اختیار کرے۔ مذہب کی تعلیمات پر صحیح طریقے سے عمل پیرا ہو کر انسان ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ ، گراںفروشی ، جھوٹ اور مبالغہ آمیزی کی تجارت سے بچ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں اس کا اپنا ضمیر مطمئن ہو گا وہیں پر معاشرے کو بھی معیاری اشیائے صرف حاصل ہوں گی۔ انسانی زندگی میں بہت سے مواقع ایسے بھی آتے ہیں کہ جب انسان کسی ناگہانی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح کسی عزیز کی جدائی یا مالی نقصان کی صورت میں بھی انسان شدید رنج وکرب کا شکار ہو جا تا ہے ۔ اگر انسان کا تعلق اپنے رب سے کمزور ہو تو انسان ان صدموں اور پریشانیوں کا خندہ پیشانی سے مقابلہ نہیں کر سکتا جبکہ خالق و مالک کے حضور سجدہ ریز ہونے سے انسان کی جملہ پریشانیوں کے خاتمے کے قوی امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔
مذہب اور انسان کے کمزور تعلق کا نتیجہ کئی مرتبہ رشتوں کی حق تلفی کی شکل میں بھی نکلتا ہے۔ خود غرض اور نفسا نفسی کا شکار انسان کسی بھی ضعیف یا کمزور شخص کا بوجھ اٹھانے کا قائل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ـمغربی معاشروں میں لوگوں کی بڑی تعداد بوڑھے والدین کو اولڈ ہاؤسز میں چھوڑ آتی ہے۔ جبکہ مذہب کی تعلیمات انسان کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ اس نے ہر قیمت پر خندہ پیشانی سے بوڑھے والدین کی خدمت کرنا ہے ۔ مذہب انسان کو سمجھوتے اور خیر خواہی کا درس دیتا ہے۔ دوسرے انسانوں کی کمزوریوں کے باوجود انہیں برداشت کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بد عملی کے باوجود مسلمان معاشروں میں طلاق کی شرح غیر مسلم ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ مذہب سے کمزور تعلق کی صورت میں انسان رفیق حیات کی معمولی سی کمزوری یا کوتاہی کی وجہ سے اس سے بیزار ہو جاتا ہے جب کہ مذہبی تعلیمات اس کو خاندان کی خیرخواہی کا درس دیتی ہیں۔ اگر ہم مذہب اور قوم کے باہمی تعلق پر غور کریں تو اس حقیقت کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ مذہب قومی، لسانی اور گروہی تعصبات کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے تعصبات کی بجائے انسان آفاقی انداز میں سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اگر ہم وطن عزیز پر غور کریں تو یہ ایک مختلف النسل ریاست ہے ۔ اس میں بسنے والے پنجابی، پٹھان، بلوچی ، سندھی اور کشمیری‘ زبان اور ثقافت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن دین اور مذہب کی نسبت سے یہ تمام قومیں اکائی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ اگر مذہب سے تعلق کمزور ہو تو خود غرضی جنم لیتی ہے اور معمولی تعصبات قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا سبب بن جاتے ہیں ۔
اسی طرح مذہب اور ریاست کے باہمی تعلق پر غور کر نے سے اس حقیقت کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ مذہبی قوانین کا مقصد معاشروں کو امن وسکون کا گہوارہ بنانے کے سوا کچھ نہیں ۔ قانونِ قصاص کا مقصد انسان کی جان کی حفاظت کرنا، چوری کی حدکا مقصد انسان کے مال کو محفوظ کرنا، شراب کی حد کا مقصدانسان کی عقل کی حفاظت کرنا اور زنا کی حد کا مقصد انسان کی عصمت اور نسب کی حفاظت کرنا جبکہ قذف کا مقصد انسان کو جھوٹے الزامات سے بچانا ہے۔ قتل وغارت گری، فساد، انتشار اور خلفشار سے ہر باشعور فرد کو نفرت کرنی چاہیے لیکن اس نفرت کا نتیجہ مذہب کی روح پرور اورحیات بخش تعلیمات سے انحراف کی شکل میں نہیں نکلنا چاہیے۔انسانوں کی بدعملی، کمزوری اور سفاکی کا ردعمل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی زریں تعلیمات سے لاتعلقی کی شکل میں ظاہر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہوا تو ہم صرف مذہب کی افادیت سے ہی محروم نہیں ہو ں گے بلکہ نظریۂ پاکستان اورتحریک پاکستان کے مقاصد کو بھی فراموش کر بیٹھیں گے۔
Alama Ibtesam Elahi Zaheer,
Dunya.com.pk